مالک دارکی روایت کی تحقیق

Go down

مالک دارکی روایت کی تحقیق

Post by Sohail on Tue Dec 14, 2010 7:45 am

بسم اللہ الرحمان الرحیم

مالک دارکی روایت کی تحقیق

طاہر القادری کا رد

محترم قارئین کرام! السلام علیکم ۔ چند ماہ قبل ایک واقعہ ایک کتاب میں میری نظر سے گذرا اور اس واقعہ کو میں اپنے ناقص علم کے مطابق جانتا تھا کہ یہ ایک ضعیف واقعہ ہے جو کسی طرح حجت کے قابل نہیں ہے صاحب کتاب نے اسے صحیح کہنے کی ناکام کوشش کی ہے اور اس واقعہ کو اپنی کتاب میں درج کرکے اس کو حجت مان کر اسے بطور دلیل پیش کیا ہے۔ ہم پہلے وہ واقعہ یہاں نقل کر رہے ہیں اس کے بعد ان کے دلائل جو انہوں نے اس واقعہ کو صحیح کہنے میں دیئے ہیں اور ان کا رد محدثین کے اصولوں ہی کے مطابق کریں گے :
''حدثنا ابو معاویة ،عن الاعمش ،عن ابی صالح ،عن مالک دار قال: وکان خازن عمر علی الطعام اصاب الناس قحط فی زمن عمرفجاء رجل الی قبرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ; استسق الامتک فانھم قدھلکوا فاتی الرجل فی المنام فقیل لہ ائت عمر فاقرئہ السلام واخبرہ انکم ومسقیون ،و قل لہ:علیک الکیس :علیک الکیس فاتی عمرفاخبرہ عمر،ثم قال : یارب لا الوالا عجزت عنہ'' (رواہ المصنف ابن ابن شیبہ جلد 6ص356رقم32002)
''حضرت عمر کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہوئے پھر ایک شخص حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر آیا اور عرض کیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی امت کے لئے سیرابی مانگئے کیونکہ وہ ہلاک ہو رہی ہے پھر خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ عمر کے پاس جاکر اسے میرا سلام کہو اور اسے بتائو کے تم سیراب کئے جائو گے اور عمر سے کہدو عقلمندی اختیار کرو؛ عقلمندی اختیار کروپھر وہ شخص عمر کے پاس آیا اور انھیں خبر دی تو حضرت عمر رو پڑے اور فرمایا : اے اللہ میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ عاجز ہو جائوں ۔''
اب ہم ذیل میں وہ دلائل نقل کررہے ہیں جن سے صاحب کتاب نے اس واقعہ کو سنداََ صحیح کہنے کی کوشش کی ہے:
(١) امام ابن تمیہ نے اقتضاء الصراط المستقیم (ص373) میں، امام ذہبی نے تاریخ الاسلام(بدالخلفاء الراشدین 373 )میں اورامام ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ (جلد5 ص164 ) میں اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی اسناد صحیح ہیں اسی سند کے ساتھ ابن ابی خثیمہ نے روایت کیا ہے جیساکہ حافظ عسقلانی الاصابہ فی تمیز 2746 میں لکھتے ہیں جبکہ وہ فتح الباری میں بھی لکھتے ہیں یہ روایت ابن ابی شیبہ نے صحیح اسناد کے ساتھ بیان کی ہے اور سیف بن عمر تمیمی نے الفتوح الکبیر میں بھی نقل کیا کہ خواب دیکھنے والے صحابی حضرت بلال بن حارث مزنی تھے امام قسطلانی نے المواہب الدنیہ (جلد4 ص276 ) میں کہا ہے اسے ابن ابی شیبہ نے صحیح اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے جبکہ علامہ زرقانی نے اپنی شرح (11 / 150 ) میں امام قسطلانی کی تائید کی ہے ۔
(٢)اس کے ایک راوی اعمش کے مدلس ہونے کی وجہ سے اعتراض کیا جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اعمش اگر چہ مدلس ہے لیکن اس کی یہ روایت درج ذیل دو وجوہات کی بنا پر مقبول ہے چاہے اس کا سماع ثابت ہو یا نہ ہو ۔
(الف):-اعمش کا ذکر دوسرے درجے کے مدلسین میں کیا گیا ہے یعنی وہ مدلسین جن سے ائمہ احادیث نے اپنی صحیح میں روایات لی ہیں لہذا ثابت ہوا کہ اعمش کی روایت مقبول ہے ۔
(ب):- دوسرا یہ کہ اگر ہم اعمش کا سماع ثابت ہونے پر ہی یہ روایت قبول کریں جیسا کہ تیسرے یا اس سے نچلے درجے کے مدلسین کے معاملے میں کیا جاتا ہے تو اعمش کی یہ روایت مقبول ہوگی کیونکہ اس نے ابو صالح سمان سے روایت نقل کی ہے امام ذہبی فرماتے ہیں جب اعمش لفظ عن کے ساتھ روایت کرے تو اس میں احتمال تدلیس ہوتا ہے مگر جب اپنے بہت سارے شیوخ مثلاََ ابراہیم، ابی وائل، ابو صالح سمان وغیرہ سے روایت کرے تو اتصال پر محمول کیا جاے گا۔(میزان الاعتدال جلد3 ص316 )امام ذہبی نے اسے ثقہ کہا ہے ۔
(٣) اس کے ایک راوی مالک دار پر مجہول ہونے کا الزام ہے اس اعتراض کا بطلان مالک دار کے اس سوانح تذکرہ سے ثابت ہے جیسا کہ ابن سعد نے مدنی تابعین کے دوسرے طبقے میں بیان کرتے ہوے کچھ یوں لکھا ہے مالک دار حضرت عمر کا آزاد کردہ غلام تھا اس نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے روایت کیا ہے اور اس سے ابو صالح سمان نے روایت لیں وہ معروف تھا۔ (ابن سعد جلد 5 ص12 )مزید براںیہ اعتراض حا فظ خلیلی کے مالک دار پر تبصرے سے غلط ثابت ہوتا ہے مالک دار (کی ثقاہت) متفق علیہ ہے اور تابعین کی جماعت نے اس کی بہت تعریف کی ہے اس کے علاوہ حافظ عسقلانی نے مالک دار کاجو سوانح خاکہ بیان کیا ہے اس سے بھی یہ اعتراض رد ہوتا ہے ۔
'' مالک بن عیاض'' حضرت عمرکے آزاد کردہ غلام کو مالک دار کہا جاتا تھا اس نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اوراس نے حضرت ابوبکر سے حدیثیں سنی ہیں اس نے حضرت عمر،حضرت معاذ اور حضرت ابو عبیدہ سے روایت کیاہے اس سے ابو صالح سمان اوراس (مالک دار) کے دو بیٹوں عون اور عبداللہ نے روایت کیا ہے۔ اور امام بخاری نے کتاب التارخ الکبیر(7 / 304 ) میں مالک دار سے ابو صالح کے طریق سے روایت لی ہے کہ حضرت عمر نے زمانہ قحط میں کہا اے میرے پروردگار میں کوتاہی نہیں کرتا مگر یہ کہ عاجز ہو جاؤں ۔
ابن ابی خثیمہ نے ان الفاظ کے ساتھ ایک طویل روایت نقل کی ہے جسے امام بغوی نے جمع کیا ہے میں مالک دار سے بحوالہ عبدالرحمن بن سعید بن یربوع مخرومی روایت نقل کی ہے اس نے کہا کہ حضرت عمر نے ایک دن مجھے بلایا اور ان کے ہاتھ میں سونے کا بٹوہ تھا اس میں چار سو دینار تھے اور انہوں نے مجھے حکم دیا کہ اسے ابو عبیدہ کے پاس لے جاؤں پھراس نے بقیہ وا قع بیان کیاابو عبیدہ نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ حضرت عمر نے اسے اپنے عیال کا نگراں مقرر کیا تھا پھر جب حضرت عثمان خلیفہ بنے تو انہوں نے اسے وزیر خزانہ بنا دیا اور اسی لئے اس کا نام (مالک دار) گھر کا مالک پڑ گیا ۔
اسمایل قاضی نے علی بن مدینی سے روایت کیا ہے کہ مالک دار حضرت عمر کے خزانچی تھے ۔ ابن حبان نے الثقات (5 / 384 ) میں مالک دار کو ثقہ قرار دیا ہے ۔
اب اگر حافظ منذری اور ابن ججری ہثیمی نے مالک دار کے بارے میں کہا ہے کہ ہم اس کو نہیں جانتے تو اس کا مطلب یہ کہ انہوںنے اسے ثقہ یا غیر ثقہ کچھ بھی نہیں کہا تاہم امام بخاری، ابن سعد، ابن مدینی ابن حبان اور حافظ ابن حجر جیسے دوسرے اجل محدثین بھی ہیں جو اسے جانتے تھے اور حافظ ابن حجر عسقلانی کا مرتبہ اسماء الرجال میں مخفی نہیں ہے ۔
پہلی دلیل کا رد:
پہلی دلیل یہ دی گئی ہے کہ اس کو مختلف ائمہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے اور ابن ابی شیبہ کی اس روایت کو بعض نے صحیح کہا ہے اگر یہ روایت مستند ہوتی تو ابن ابی شیبہ اس روایت کو نقل فرماکر خود اسے صحیح کہہ دیتے مگر انہوں نے اس روایت پر سکوت اختیار کیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ 6 / 356 رقم 32002) امام ذہبی کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس روایت کی تائید کی ہے یہ ایک باطل کلام ہے جو امام ذہبی جیسے محقق پر باندھا گیا ہے امام ذہبی نے اس روایت کو اپنی تاریخ میں بیان ضرور کیا ہے مگر اس کی صحت پر سکوت اختیار کیا ہے انہوں نے اپنی اس کتاب میں متعدد روایت پر صحیح اور ضعیف کا حکم لگایا ہے مگر جن کی سند کا انھیں علم نہ ہوا یا جن کے بارے میں اطمینان نہ ہوا اس پر سکوت اختیار کیا ہے اور یہ روایت ان میں سے ایک ہے ۔(تاریخ الخلفاء راشدین ص 273 ) ا ور حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں جو اس روایت کا تذکرہ کیا ہے تو اس کی تمام سند کو صحیح قرار نہیں دیا ہے بلکہ اس روایت کو ابو صالح سمان تک صحیح فرمایا ہے اور ہم ان کا قول فتح الباری کے حوالے سے نقل کیے دیتے ہیں:
'' وروی ابن ابی شیبہ باسناد صحیح من روایة ابی صالح السمان عن مالک الداری ''(فتح الباری جلد3 ص430 باب کتاب استسقائ)
'' روایت کیا ابن ابی شیبہ نے صحیح اسناد سے ابو صالح سمان عن مالک دار''۔
اگر حافظ ابن حجر عسقلانی اس کی تمام اسناد کو صحیح مانتے تو وہ مالک دار سے روایت کو نقل کرکے کہتے کہ یہ روایت صحیح سند سے مالک دار سے مروی ہے مگر انہوں نے روایت کو ابوصالح تک صحیح نقل کیا ہے اور اس کے بعد مالک دار کا تذکرہ کیا ہے اور جس سے وہ یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ یہ روایت ابو صالح سمان تک صحیح ہے اور اس قول کی تائید مختلف دلائل سے ہوتی ہے مثلاََحافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں ابن ابی شیبہ کی ایک اور روایت نقل کی ہے کہ:
'' ابن ابی شیبہ من حدیث ابی سعید خدری '' خرجنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی خیبر لثمان عشرہ من رمضان '' الحدیث و اسنادہ حسن ''
( فتح الباری جلد 8 ص 395 تحت ح 4195 باب غزوہ خیبر)
اس روایت میں آپ غور سے دیکھ سکتے ہیں کہ حافظ عسقلانی نے اس روایت کی سند کو حسن کہا ہے اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک اس کی سند کو بیان کیا ہے اگر اس کی سند متصل نہ ہوتی تو وہ اس روایت کو بھی اسی سند تک صحیح ذکر کرتے جہاں تک یہ روایت صحیح متصل ہوتی مگر جبکہ یہ روایت صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل ہے اس لئے اس کو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک بیان کر کے اسے حسنکہاہے اور ان کے اس موقف کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ علامہ ہثمی نے مجمع الزوائد میں مالک دار سے ایک اور روایت نقل کر کے اس کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ:
'' رواہ الطبرانی فی الکبیر و مالک دار لم اعرفہ و بقیة رجال ثقات ''
روایت کیا اسے طبرانی نے الکبیر میں اور تمام رجال اس کے ثقات ہیں مگر مالک دار معروف نہیںہے۔
(مجمع الزوائد ۔125/۳)
یہ وہی اسلوب ہے جو حافظ عسقلانی نے اختیار کیا ہے کہ روایت کو صرف ابوصالح سمان سے شروع کیا تاکہ یہ اندازہ ہو جائے کہ ان کے نزدیک مالک دار مجہول ہے ۔یہ ایک دقیق علم ہے اور اس کو وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اس علم میں زندگی گزاری ہو یہ بات عصر حاضر کے محدث علامہ ناصر الدین البانی نے بیان کی ہے اور یہ نکتہ بھی انہوں نے ہی اپنی کتاب میں درج کیا ہے ۔
(دیکھئے: التوسل ،الحکامہ انواعہ)
اور الفتح الکبیرکے حوالے سے یہ نقل کیا ہے کہ وہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال بن حارث مزنی تھے اور روایت میں سیف بن عمر تمیمی ہے جو محدثین کے نزدیک بلااتفاق ضعیف ہے بلکہ اس کے بابت یہاں تک کہا گیا ہے کہ وہ من گھڑت حدیثیں بیان کرتا تھا۔(تھذیب التھذیب جلد 3ص583) اس لیے الفتح الکبیر کی روایت کوتو محدثین نے سرے سے قابل حجت نہیںمانا ہے اور حافظ ابن حجر نے بھی مالک دار کو مجہول قرار دیا ہے اور اس روایت کی صحت پر عدم قبولیت کا اظہار کیا ہے اب اس روایت کی دوسری دلیل کی جانب چلتے ہیں ۔
دوسری دلیل کا رد :
اس دلیل میں الاعمش کے حوالے سے بات کی گئی ہے کہ الاعمش کی تدلیس قابل قبول ہے کیونکہ وہ دوسرے درجے کا مدلس ہے اور اس کی روایت دو وجوہات کی بنیاد پر قابل قبول ہے پہلی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے چونکہ یہ دوسرے درجے کا مدلس ہے اور اس سے ائمہ نے کتب صحیح میں روایت لی ہیں اس لئے اس کی روایت قابل قبول ہے ۔ اس قول کا باطل ہو نا صرف اسی اصول سے کافی ہے کہ امام نووی شرح مسلم میں نقل کرتے ہیں کہ:
'' والاعمش مدلس والمدلس اذا قال عن لا یحتج بہ الا اذا ثبت سماعہ من جھة اخری''۔
( شرح صحیح مسلم جلد1 ص72 تحت ح 109)
'' اور الاعمش مدلس ہے اور مدلس روای جب عن سے روایت کرتا ہے تو اس کی روایت قابل قبول نہیں ہے مگر اگر وہ کسی دوسری سند سے ثابت ہو۔''
اور الاعمش سے جو روایات صحیح میں لیں گئیں ہیں وہ دوسری سند سے ثابت ہیں اور اس کی دلیل میں امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ:
''ان المدلس اذا قال:عن ،لا یحتج بہ الا یثبت سماعہ من جھة اُخری و ان ما کان فی (الصحیحین ) من ذلک فمحمول علی ثبوت سماعہ جھة اُخری ''
جاری ہے ۔۔۔


Last edited by Sohail on Tue Dec 14, 2010 7:51 am; edited 1 time in total
avatar
Sohail
Admin

Posts : 174
Join date : 2010-12-09

View user profile http://rextime.niceboard.com

Back to top Go down

Re: مالک دارکی روایت کی تحقیق

Post by Sohail on Tue Dec 14, 2010 7:47 am

'' مدلس روای جب عن سے روایت کرتا ہے تو اس کی روایت قابل قبول نہیں ہے مگر اگر وہ کسی دوسری سند سے ثابت ہواورصحیحین میں(بخاری اور مسلم)میں جو مدلسین سے روایت لیں گئیں ہیں وہ دوسری جہت سے ثابت ہیں۔''(المقدمہ صحیح مسلم جلد1 ص110 تحت باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع)
امام نووی کے علاوہ یہی قول ابن الصلاح نے اپنے مقدمہ میں اور امام العلائی نے جامع التحصیل میں نقل کیا ہے ۔(مقدمہ ابن الصلاح ص171 ،جامع التحصیل ص113 )اور مصنف ابن ابی شیبہ کی یہ روایت جس میں الاعمش ہے یہ اور کسی دوسرے جہت سے ثابت نہیں ہے اس لئے یہ قابل قبول نہیں ہے جب تک دوسری کوئی روایت صحیح سند سے اس کی تائید نہ کر دے اور (صحیحین)میں الاعمش کو دوسرے درجے کا مدلس روای درج کیا گیا ہے مگر دوسرے درجے کے مدلس کی روایت صرف بخاری اور مسلم ہی میں قبول کی جائے گی چاہے اس کی صراحت ہو یا نہ ہو مگر اس اصول کے باوجود بخاری اور مسلم نے تمام مدلسین جن سے انہوں نے روایت لیں ہیں اس کی سماع کی تصر یح کی ہے جیسا ہم نے امام نووی کا قول شرح مسلم کے حوالے سے نقل کیا ہے ا ور اس کے علاوہ اس راوی کی روایت کسی اور کتب میںقابل قبول نہیں ہو گی جب تک دوسری سندسے اس کے سماع کی تصریح نہ ہوجائے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے اور امام العلائی نے دوسرے درجے کے مدلسین کے طبقات کے بارے میں اصول میں بیان کیا ہے کہ:
'' من احتمل الائمة تدلیسہ و خرجوا لہ فی الصحیح و ان لم یصرح بالسماع و ذلک اما لامامتہ او لقلة تدلیسہ فی جنب مارواہ ،واھل ھذہ المرتبہ روایتہم محمولة علی الاتصال صرحوا بالسماع او لم یصرحوا''۔
(جامع التحصیل ص113 )
'' جب ائمہ مرتبہ ثانیہ کی تدلیس کا احتمال کرتے ہیں اور اس کی روایت کو صحیح (بخاری یا مسلم) میں نکالا ہو اگرچہ اسکی سماع کی تصریح نہیں ہو اور یہ (روایت قابل قبول ہوگی) جب اس مرتبہ کا راوی اپنے شیوخ سے روایت کرے یا وہ کوتاہی سے تدلیس کرتاہواپنی روایت میں،اور اس مرتبے میں روایت ان کی اتصال پر محمول ہے چاہے ان سے سماع کی تصریح ہو یا نہیںہو۔''
اور ابن صلاح نے اپنے مقدمہ میں اسے تیسرے درجے کا مدلس نقل کیا ہے ۔( مقدمہ ابن الصلاح) اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے اسے پانچوئے درجہ کا مدلس بیان کیا ہے:
'' سلیمان بن مھران الاسدی الاعمش ثقہ لکنہ یدلیس من الخامسة''(تقریب تھذیب جلد1 ص229 )
'' سلیمان بن مہران الاسدی الاعمش ثقہ روای ہے مگر پانچوئے درجے کا مدلس ہے۔''
اس سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اگرچہ صحیحین میں ا لاعمش دوسرے درجہ کا مدلس ہے اور اس سے شیخین نے روایت لیں ہیںاور دوسرے درجے کے مدلس کے لئے یہ اصول ہے کہ اگر اس سے صرف بخاری اور مسلم روایت کریں تواور اس کی صراحت نہ بھی ہو تو اس کی روایت قابل قبول ہے مگر صحیحین نے جن مدلسین سے روایت لیں ہیں ان کے سماع کی تصریح کی ہے جیسا ہم نے اوپر امام نووی اور دوسرے محدثین کے اقوال نقلکیا ہے۔ تو ا ب یہ بات نکھر کر سامنے آئی ہے کہ اگر مدلس راوی عن سے روایت کر ے گا تو جب تک مدلس روای کی روایت کا سماع ثابت نہ ہو وہ قابل قبول نہیں ہے اور ابن صلاح نے اسے تیسرے درجے کا مدلس نقل کیا ہے ۔( مقدمہ ابن الصلاح)اور حافظ نے پانچوے درجے کا مدلس نقل کیا ہے تو اگر صحیحین کا قول مان لیا جائے تو بھی یہ صرف صحیحین ہی تک محدود ہے او ر یہ واقعہ صاحب کتاب کا بدقسمتی سے صحیحین میں نقل نہیں ہوا ہے اور انہوں نے بھی مدلس راویوں کی روایات کو دوسرے سماع سے ثابت کیا ہے اوراگر ابن صلاح وغیرہ کی بات مان لیں تو دوسرے درجے کے مدلس راوی کی روایت اگر صحیحین میں ہو تو قبول ہو گی جبکہ وہ دوسری جہت سے ثابت ہو۔اب تیسرے درجے کے مدلس کی روایت تو از خود رد ہو جاتی ہے جس کے سماع کی تصریح ثابت نہیں ہواور تیسرے درجے کے مدلس کے بارے میں محدثین نے کیا اصول مرتب کیا ہے اس پر نظر ڈالتے ہیں:
'' المرتبہ الثالثہ: من اکثر من التدلیس فلح یحتج من احادیثھم الا بما صراحوا فیہ بالسماع و منھم رد حدیثھم مطلقا ، منھم قبلھم کابی الزبیر المکی ''(تعریف اھل التقدلیس ص23 )
''جو اکثر تدلیس کرتے ہیں تو ان کی روایت حجت نہیں ہے مگر یہ کہ اس میں سماع ثابت ہو جائے اور بعض نے ان کی روایت کا (سماع کے باوجود) مطلقا رد کر دیا اور بعض نے (سماع کے ساتھ) قبول بھی کیا جیسے ابو الزبیر المکی۔''
اب الاعمش دوسرے، تیسرے یا پانچوئے درجے کا مدلس ہو اس کی روایت کی تصریح جب تک ثابت نہیں ہوتی قابل قبول نہیں ہے اور جو امام ذہبی کا یہ قول کہ جب وہ اپنے شیوخ سے روایت کرے تو اسے اتصال پر محمول کیا جائے گا ، امام ذہبی کا یہ قول غریب (یعنی جدا ) ہے کیونکہ یہ اصول صرف صحیحین کی روایات کے لئے ہے جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے اس کے علاوہ کسی کے لئے یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے اور مقدمین محدثین میں سے کسی ایک نے بھی یہ بات بیان نہیں کی ہے بلکہ مقدمین نے الاعمش کی تدلیس پر سخت جرح کی ہے جس کو ہم یہاں بیان کیے دیتے ہیں جس سے آپ کو اس کی تدلیس کے بارے میں محدثین کے اقوال کا بھی اندازہ جائے گا کہ اس کی تدلیس پر مقدمینِ محد ثین نے کس قدر سخت جرح کی ہے :
(١) حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ الاعمش پانچوئے درجے کا مدلس ہے (تقریب تھذیب جلد1 ص229 ) اور انہوں نے اسے اپنی کتاب طبقات المدلسین میں بھی نقل کیا ہے (الطبقات المدلسین ص43)اور انہوں نے ایسا کوئی اصول نہیں واضح کیا ہے جو امام ذہبی نے بیان کیا ہے ۔
(۲)امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں الاعمش کا ابو صالح سے سمع ثابت نہیں ہے۔
(تھذیب التھذیب جلد3 ص506-509)
(۳)سفیان فرماتے ہیں الاعمش کو ابو صالح سے سمع نہیں ہے ۔
(ابن ابی حاتم الجرح التعدیل جلد 1ص104کتاب المقدمہ)
(٤) امام نووی نے الاعمش کو مدلس کہاہے اور ان کا قول ہم اوپر نقل کر چکے ہیں ۔
(شرح صحیح مسلم جلد1ص72تحت ح109)
(٥) ابن القطان فرماتے ہیں یہ لازمی نہیں ہے کہ اگر روای ثقات ہوں تو روایت صحیح ہو گی جیسا کہ الاعمش ہے جوکہ مدلس ہے۔ ( التلخیص الحبیر جلد 3ص48)
یہاں ابن قطان نے یہ بات واضح کر دی کے یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر روای ثقہ ہیتو روایت صحیح ہو گی اور انھوں نے اس کی تردید کے لئے الاعمش ہی کی مثال پیش کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ الاعمش کی تدلس پر محدثین نے کڑی جرح کی ہے
(٦) امام بخاری نے بھی الاعمش کا اس روایت میں انقطاع ہی مانا ہے ذیل میں ہم اس کو تفصیل سے بیان کریں گے ۔(التاریخ الکبیر جلد 7 ص230 )
ان تمام بحث کا حصول یہ ہے کہ الاعمش مدلس ہے اور اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوسکتی جب تک اس کے سماع کی تصریح ثابت نہیں ہوتی ، اور اس روایت میںالاعمش نے ابو صالح سمان سے روایت کی ہے اور مقدمین ِ محدثین نے ان کا آپس میں انقطاع بیان کیا ہے، یہ اس روایت کی پہلی علت ہے اور اس کے بعد اس روایت میں دوسری علت مالک دار موجود ہے جو مجہول ہے اور اس کی دلیل ہم ذیل میں بیان کیے دیتے ہیں ۔
تیسری دلیل کا رد:
تیسری دلیل یہ ہیکہ مالک دار پر جو مجہول ہونے کا الزاماس کے ردمیں یہ دلیل دی گئی ہے کہ مالک دار کو ابن سعد نے (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے اور اسے معروف بتایا ہے ، ابن سعد کے حوالے سے ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ابن سعد نے مالک دار کو مجہول ہی نقل کیا ہے اور جہاں تک (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے تو اس سے مالک دار کی ثقاہت اور ضبط وعدل اور معروف ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایسے بہت سے راوی ہیں جن کو ابن سعد نے (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین )میں نقل کیا ہے مگران کے ضبط و اتقان کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے اور ان پر سکوت اختیار کیا ہے مثلا:
(١)ابن سعد نے اسلم کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کیا ہے اور یہ عمر کے غلام تھے۔(طبقات ابن سعد جلد5 ص10 )اس کی کوئی صراحت موجودنہیں (ii ) ابن سعد نے ھُنَیّ کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کیا ہے مگر اس کے بابت بھی کوئی حکم نہیں لگایا ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے نہیں ہے یا معروف ہے اور یہ بھی عمر کے غلام تھے ۔ان دونوں کے بارے میں ابن سعد نے کوئی حکم نہیں لگایا ہے مگر مالک دار کے بارے میں یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ معروف نہیں ہے اور جب ان کو کسی روای کے بارے میں علم ہوتا تو اس کو بیان کر دیتے تھے اور ذیل میں ہم اس کی مثال نقل کر رہے ہیں :
(i ) ابن سعد نے ابو قُرةکو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) نقل کیا ہے اور اس کے بارے میں کہا ہے یہ ثقہ ہے اور اس سے بہت کم روایات ہیں اور یہ عبدالرحمن بن الحارث کے غلام تھے ۔
(ii ) ابن سعد نے ابن مرسا کو (الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) نقل کیا ہے اور اس کے بارے میں کہا ہے یہ ثقہ ہے اور اس سے بہت کم روایات ہیں۔
(٢) ایک راوی صہیب ہیں جو حضرت عباس کے غلام تھے جیسا مالک دار حضرت عمر کے غلام تھے صہیب کے بارے میں محدثین کیا فرماتے ہیں ذرا ملاحظہ فرمائیں:
(i )امام حاتم نے صہیب کے مجہول ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فقط ابو صالح سمان نے روایت کیاہے ۔(الجرح و التعدیل ابن ابی حاتم جلد 4 ص413 )
(ii )تحریر تھذیب التھذیب میں بیان ہوا ہے کہ صہیب مجہول ہے۔ (تحریر تھذیب التھذیب جلد2 ص144 )
(iii )امام ذہبی نے کہا کہ میں اسے نہیں جانتا ۔(الجرح التعدیل جلد1ص236،میزان الاعتدال جلد2ص247 )
ان راویوں کو آپ کے سامنے رکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اگر کسی راوی کو اول مدینہ کے تابعین میں ابن سعد نے نقل کیا ہے اور اس کو معروف یااس کے ضبط اوراتقان کو نقل نہیں کیاتو محض ابن سعد کے(الطبقة الاولی من اھل المدینہ من التابعین ) میں نقل کر دینے سے وہ راوی ثقہ یا معروف نہیں ہوجاتا ہے ابن سعد نے اہل مدینہ کے اول طبقے میں بہت سے راویوں کو نقل کیا ہے اور ان کی ثقاہت کے بارے میں بیان بھی کیا ہے مگر مالک دار کو بیان کرکے اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے اور ایسے متعدد راوی ہیں کہ جن کے بارے میں ابن سعد کو علم نہیں ہوا ان کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا ہے اور اس کی مثالیں ہم نے اوپر پیش کیں ہیں۔
دوسرے راوی صہیب سے ابو صالح سمان نے ہی روایت کیا ہے جیسا کہ مالک دار سے روایت کیا ہے مگر محدثین نے صہیب کو مجہول قرار دیا ہے اس تمام بحث کا حصول یہی ہے کہ نیک ہونے کے ساتھ روای کی ثقاہت اور اس کا ضبط حدیث ثابت ہونا ضروری ہے نہ کہ یہ ثابت ہو کہ اس نے کس سے روایت کی ہے اور اس نے کون سا زمانہ پایا اگرنیک ہونے کے ساتھ حفظ و اتقان ہے تو راوی قابل قبول ہے وگرنہ کتنا ہی نیک ہو اس سے روایت قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ امام مسلم نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ:
'' ابی الزناد قال ادرکت بالمدینة مائة کلھم مامون مایوخذ عنھم الحدیث یقال لیس من اھلہ''
(مقدمہ صحیح مسلم ص 33 )
'' ابو الزناد (حدیث کے امام تھے) نے کہا میں نے مدینہ میں سولوگوں کو پایا سب کے سب نیک تھے مگر ان سے حدیث کی روایت نہیں کی جاتی تھی لوگ کہتے تھے وہ اس کے اہل نہیں ہیں ۔''
اس کی شرح میں امام نووی لکھتے ہیں کہ اگرچہ وہ دیندار تھے مگر حدیث کے مقبول ہونے کے لئے اور شرطیں بھی ضروری ہیںجیسے حفظ واتقان اور معرفت فقط زہدوریاضت کافی نہیںاس لئے ان سے روایت نہیں کرتے تھے(ایضاََ) اور امام یحیی بن سعید القطان فرماتے ہیں کہ میں ایک لاکھ دینار کے لئے جس آدمی کو صحیح سمجھتا ہوں ایک حدیث کیلئے اسے امین نہیں سمجھتا ہوں ۔(الکفایہ فی علم الروایہ) اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ صرف روای کی سوانح حال سے یا اس کے خزانچی ہونے سے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوتی اگر ایسا ہوتا تو مالک دار کی سوانح حال کو بیان کرنے والے اس کی توثیق خود کرتے اور اسے ثقہ اور معروف بتاتے ۔
جاری ہے ۔۔۔


Last edited by Sohail on Tue Dec 14, 2010 7:53 am; edited 1 time in total
avatar
Sohail
Admin

Posts : 174
Join date : 2010-12-09

View user profile http://rextime.niceboard.com

Back to top Go down

Re: مالک دارکی روایت کی تحقیق

Post by Sohail on Tue Dec 14, 2010 7:49 am

اس کے بعد اس نقطہ کی جانب آتے ہیں کہ ابن سعد نے مالک دار کے بارے میں کہا کہ یہ معروف ہے یہ ایک غلط قول ہے ابن سعد نے مالک دار کو معروف نہیں کہا بلکہ ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے ابن سعد کا یہ قول ہم یہاں نقل کیے دیتے:
''وروی مالک الدار عن ابن بکر الصدیق وعمررضی اللہ عنہما روی عنہ ابو صالح السمان وکان معروفاََ'' ( طبقات ابن سعد جلد 5 ص12 )
'' اور روایت کیا مالک دار نے ابو بکر صدیق و عمر سے اور روایت کیا اس سے ابو صالح سمان نے اور وہ معروف ہے ۔''
ابن سعد نے ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے نہ کہ مالک دار کو کیونکہ اگر یہاں مالک دار کو معروف کہا گیا ہے تو حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں ابن ابی شعبہ کی روایت کو متصل مالک دار سے بیان کرتے مگر انہوں نے اسے ابو صالح سمان تک ہی صحیح کہا ہے کیونکہ وہ مالک دار کو نہیں پہچانتے جیسا ہم نے پہلی دلیل کے رد میں اسے بیان کیا ہے کیونکہ حافظ عسقلانی نے ابن سعد کا یہ قول اپنی کتاب التمیزفی صحابہ میں نقل کیا ہے اگر ابن سعد نے مالک دار کو معروف کہا ہوتا تو حافظ ابن حجر اس روایت کو صحیح مان لیتے کیونکہ وہ یہ قول اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں مگر انہوں نے اس روایت کو صحیح نہیں مانا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ابن سعد نے ابو صالح سمان کو معروف کہا ہے نہ کہ مالک دار کو کہا ہے ۔
دوسری بات یہ کہ مالک دار کے حوالے سے تاریخ ابن عساکر سے جو باتیں نقل کی گئی ہیں اور جو واقعہ عبیدہ بن جراح سے نقل کیا گیا ہے یہ واقعہ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں نقل کیا ہے اور اس میں مالک دار کو مجہول بتایا ہےتو یہ واقعہ ویسے ہی اعتبارکے قابل نہیں ہے۔(مجمع الزوائد جلد3 ص125 ) اور امام خیثمہ نے مالک دار کی سوانح حال بیان کیا مگر اس کے بارے میں کوئی توثیق نہیں کی ہے بلکہ امام ابن حاتم ہی کا الجرح التعدیل کا قول نقل کر دیا ہے تو اس سے بھی مالک دار کی کوئی توثیق نہیں ہوتی کہ وہ معروف ہے امام بخاری نے جو مالک دار سے روایت نقل کی ہے تاریخ الکبیر میں ہے اور اس میں بھی امام بخاری نے فقط یہی الفاظ نقل کیے ہیں:
'' فی زمانہ قحط یا رب الو الا ما عجزت عنہ ''(التاریخ الکبیر جلد 7 ص230 )
اگر امام بخاری اس واقعہ کو مستند مانتے تو اسے مکمل نقل کرتے مگر انہوں نے اس واقعہ کو مختصر نقل کیا ہے اور اس کی وجوہات ہم ذیل میں نقل کیے دیتے ہیں:
(i ) امام بخاری نے اس واقعہ کو اس لئے قبول نہیں کیا کہ یہ واقعہ مستند نہیں ہے کیونکہ یہ واقعہ الفتاح الکبیر میں بھی نقل ہوا ہےمگر اس کی سند میں ایک راوی سیف بن عمرتمیمی بلاتفاق محدثین ضعیف ہے ۔ (تہذیب التھذیب جلد3 ص583 ) اسی و جہ سے امام بخاری نے اس واقعہ کو نقل نہیں کیا ہے ۔
(ii ) امام بخاری نے اس واقعہ کو اس لئے بھی نقل نہیں کیا ہے کہ ان کی نظر میں یہ واقعہ اس حد تک بھی صحیح نہیں ہے کہ اسے اپنی صحیح کے علاوہ کسی اور کتاب میں بھی درج کریں امام بخاری نے صرف اپنی صحیح کے لئے ہی یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اس میں تمام صحیح روایات کو جمع کریں گے۔ ( فتح الباری جلد 1ص8-10 ) امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ اس میں صرف صحیح احادیث نقل کریں گے اور اس کے علاوہ کسی کتاب کے لئے یہ شرط نہیں رکھی ہے تو اس واقعہ کو امام بخاری نے اس حد تک بھی قبول نہیں کیا کہ اسے اپنی دوسری کتب میں نقل کر تے تو امام بخاری کے نزدیک بھی یہ واقعہ کوئی مستند نہیں ہے جس سے حجت لی جا سکے ۔
(iii ) امام بخاری نے اپنی تاریخ الکبیر میں اس واقعہ کے جس حصے کو نقل کیا ہے اس کی سند کو بھی ایک علت کے ساتھ بیان کیا ہے پہلے ہم اس روایت کو نقل کیے دے دیتے ہیں اس کے بعداس کی علت کی نشاندہی کریں گے جس کی طرف امام بخاری نے اشارہ کیا ہے:
''مالک بن عیاض الدار ان عمر قال فی قحط یا رب الو الا ما عجزت عنہ قالہ علی (ابن المدینی) عن محمد بن خازم عن ابی الصالح عن مالک الدار''(التاریخ الکبیر جلد 7 ص230 )
اس روایت میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ الاعمش درمیان سے غائب ہے جبکہ اس کی سندجو مصنف ابن ابی شیبہ میں بیان ہوئی ہےاس میں الاعمش موجود ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہےتو کیا وجہ ہےکہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا اس بات سے امام بخاری یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک تو یہ واقعہ ہی مستند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس کو سرے سے نقل ہی نہیں کیا ہے اودوسرے اس کی سند میں الاعمش ہے جس کا ابو صالح سمان سے انقطاع موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے الاعمش کو درمیان سے غائب کر دیا جس سے انہوں نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ اس روایت کی سند بھی صحیح نہیں ہے اور اس میں الاعمش کا ابو صالح سمان سے انقطاع ہے اور جو بات ہم گزشتہ صفحات امام احمد بن حنبل اور سفیان کے حوالے سے نقل کر چکے ہیں اسی بات کی جانب امام بخاری نے بھی اشارہ کیا ہے ۔
اس روایت میں نہ الاعمش کو محدثین نے اس کی تدلیس کے باعث حجت مانا ہے اور نہ مالک دار کے بارے میں کوئی توثیق ملتی کہ وہ ایک معروف راوی اور ضبط اور اتقان میں محدثین کے اصولوں پر پورا اترے مالک دار کے بارے میں جو یہ کہا گیا کہ امام بخاری ،ابن سعد ،ابن المدینی، حافظ ابن حجر اور دوسرے محدثین اس کو جانتے تھے اس کلام کا باطل ہونا ہم نے اوپر دلائل سے ثابت کیا ہے حافظ ابن حجر نے اس کی روایت پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اس پر سکوت اختیار کیا ہے جس سے محدثین کی مراد یہی ہوتی ہے کہ ان کو اس روای کے عدل و ضبط اور اس کے حالات کا علم نہیں ہوا ہے اور ابن سعد نے بھی اس کو معروف نہیں کہا ہے جیسا اوپر اس کے بارے میں باطل دلیل دی جارہی تھی اور ابن المدینی کے حوالے سے جو بیان کیا گیا ہے کہ ابن المدینی نے مالک دار کو خازن بتایا ہے تو یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ہے یہ بات تواس روایت کے شروع میں ہی موجود ہے کہ عمر کے خازن نے یہ واقعہ بیان کیا ہے ابن المدینی نے یہ بیان کرنے کے باوجود کہ مالک دار عمر کے خازن ہیں اس کے بارے میں کوئی کلام نہیں کیا کہ یہ روای معروف ہے یا ثقہ کسی راوی کا خازن ہونا اور بات ہے اور حدیث میں ثقہ ، معروف اور عدل وضبط میں پورا اترنا دوسری بات ہے جیسا کہ ہم نے اوپر امام مسلم اورامام یحیی بن سعید القطان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ صرف نیک ہونا راوی کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے اگرایساکوئی محدثین کا اصول ہو تاتو وہ اس اصول کی روشنی میں مالک دار کی ثقاہت کو مانتے اور اس کی تصدیق ضرور کر تے مگر جیسا ہم نے اوپر بھی بیان کیا ہے کہ ایسا کوئی اصول محدثین نے مرتب نہیں کیا ہے یہی وجہ ہے کہ عمرکے خازن ہونے کہ باوجود ابن المدینی نے مالک دار کی توثیق نہیں کی بلکہ آخر میں ابن حاتم ہی کا قول نقل کر دیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امام بخاری نے اس کی سند سے روایت تو لی ہے اور اس میں بھی الاعمش کی وجہ سے انقطاع بیان کیا ہے اور دوسرے اس واقعہ کو بیان ہی نہیں کیا ہے جو سب سے بڑھ کر اس بات کی دلیل ہے کہ محدثین میں سے کسی نے مالک دار سے یہ واقعہ قبول نہیں کیا ہے اور ان محدثین کے اقوال ہمارے موقف کی تائیدمیں ہیں اور امام ہیثمی نے اس سے ایک روایت بیان کرنے کہ بعد یہ کہا کہ: ومالک دار لم اعرفہ و بقیہ رجال ثقات(مجمع الزوائد جلد3 ص125 ) ترجمہ:''اور مالک دار کو میں نہیں جانتا او ر باقی رجال ثقہ ہیں ''َ
اور ابن ابی حاتم نے بھی فقط اتنا ہی بیان کیا ہے کہ مالک دار سے فقط ابو صالح سمان نے روایت کیا ہے اور یہ امام ابن حاتم کا اسلوب ہے جو راوی مجہول ہوتا ہے اس کے بارے میں ابن ابی حاتم فقط اتنا فرما کر سکوت اختیار کر لیتے ہیں کہ یہ اس روای سے روایت کرنے والا منفرد ہے جس سے وہ یہ باور کراتے ہیں کہ یہ روای معروف نہیں ہے اور اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں ہم چند پیش کیے دیتے ہیں :
(i ) صہیب غلام تھا حضرت عباس کا اور ابن ابی حاتم نے اس کے بارے میں بھی یہی کہا ہے کہ فقط ابو صالح سمان نے اس سے روایت کی ہے۔(الجرح و التعدیل جلد4 ص413 )
اورجیسا کہ تقریب التھذیب میں بیان ہوا ہےکہ صہیب مجہول ہے۔(تحریر تقریب والتھذیب جلد 2ص144 ) اورمحدثین کی یہ لم اعرفہ کی اصطلاح بھی بہت معروف ہے جب محدثین یہ اصطلاح استعمال کرتے ہیں اس سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ وہ اسے جانتے نہیں ہے جیسا اوپر اس روایت کو صحیح کرنے کی دلیل میں بیان کیا گیا ہے بلکہ محدثین سے اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ یہ راوی مجہول ہے مثلا جیسا امام ذہبی نے صہیب کے بابت یہ کہا ہے کہ لم اعرفہ میں اسے نہیں جانتا تو اس کے معنی یہی ہے کہ وہ معروف نہیں ہے وہ مجہول ہے جیسا تحریر تقریب و التھذیب میں بیان ہوا ہے کہ صہیب مجہول ہے۔ (تحریر تقریب و التھذیب جلد 2 ص144 ) اور دوسری مثال ام ابان جو ایک مجہولہ راویہ ہے اس کے بارے میں امام ذہبی فرماتے ہیں کہ:
'' مجھول تفرد بروایة عبدا لرحمن بن الاعنق''(میزان الاعتدال جلد4 ص439 )
''یہ راویہ مجھولہ ہے اور عبدالرحمن بن الاعنق اس سے روایت کرنے میں منفرد ہے '' ۔
اس میں اس راویہ کو مجہول کہہ کر امام ذہبی بھی وہی بات کہہ رہے ہیں کہ اس سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن الاعنق منفرد ہے اور یہی بات امام ابن حاتم کہتے ہیں جب کوئی راوی ان کی نظر میں مجھول ہوتا ہے کہ یہ راوی اس سے روایت میں منفرد ہے ۔
تو محدثین جب کسی کو لم اعرفہ کہتے ہیں یا روایت کرنے والے کو منفرد کہتے ہیں تو اس سے وہ یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ راوی مجہول ہے اور مالک دار کے بارے میں بھی امام ہیثمی اور امام ابن حاتم نے یہی اصطلاح استعمال کی ہے اور کسی بھی محدث نے اس واقعہ کو مستند نہیں مانا ہے جن کا ذکر کر کے صاحب کتاب نے اس واقعہ کوصحیح کرنے کی کوشش کی ہے ۔
متنِ حدیث پر کلام :
اگر اس روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے جوایک نا ممکن بات ہے جیسا کہ اونٹ کا سوئی کے ناقے میں سے گزر جانا ، تو بھی اس روایت کے متن میں بھی ایسی خامی ہے جس سے حجت نہیں لی جا سکتی ہے اس روایت کے حوالے سے صاحب کتاب نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس روایت میںحضرت عمر کو ایک عمل کے بارے میں پتا چلا اور انہوں نے اس سے روکا نہیں ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل درست ہے سب سے پہلے تو ہم یہی کہتے ہیں کہ اگر اس روایت پر غور کیا جائے تو اس دلیل کا بطلان ازخود ثابت ہو جائے گا اس روایت کو ہم ذیل میں نقل کرکے اس دلیل کے باطل ہونے کی وجہ بھی آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔
حدثنا ابو معاویة ،عن الاعمش ،عن ابی صالح ،عن مالک دار قال : وکان خازن عمر علی الطعام اصاب الناس قحط فی زمن عمر فجاء رجل الی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ; استسق الامتک فانھم قدھلکوا فاتی الرجل فی المنام فقیل لہ ائت عمر فاقرئہ السلام واخبرہ انکم ومسقیون ، و قل لہ:علیک الکیس :علیک الکیس فاتی عمرفاخبرہ عمر،ثم قال : یارب لا الوالا عجزت عنہ (اٰیضاََ)
اگر ہم اس روایت پر غور کریں تو دو باتیں سامنے آتی ہیں اول کہ یہ عمل حضرت عمر کے سامنے نہیں ہوا ہے

جاری ہے۔۔
۔
E-mail: sohailnasir2002@yahoo.com
website:www.rextime.com


Last edited by Sohail on Tue Dec 14, 2010 7:56 am; edited 1 time in total
avatar
Sohail
Admin

Posts : 174
Join date : 2010-12-09

View user profile http://rextime.niceboard.com

Back to top Go down

Re: مالک دارکی روایت کی تحقیق

Post by Sohail on Tue Dec 14, 2010 7:50 am

اور کس نے کیا اس کا بھی علم نہیں اس لئے یہ حجت نہیں ہوسکتاہے ۔
دوسرے یہ کہ اس میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ عمر کو ایک عمل کی خبر ہوئی مگر انہوں نے نکیر نہیں فرمائی اس لئے یہ حجت ہے مگر ہم یہ عرض کرناچاہتے ہیں کہ اگر ہم روایت کے متن میں غور کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ عمر کو خبر دینے والے شخص نے انہوں پورا واقعہ نہیں بیان کیا بلکہ روایت میں یہ الفاظ موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاس شخص سے فرمایا :''فاقرئہ السلام واخبرہ انکم ومسقیون'' ترجمہ: کہ عمر کو میرا سلام دو اور ان کو خبر دو کے تم سیراب کیے جاؤ گے اور اس کے بعد اس شخص نے یہی خبر عمر کو آکر دی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپ سیراب کیے جاؤگے اور اس کے لئے روایت میں جو الفاظ موجود ہیں وہ یہ ہیں کہ'' فاتی عمرفاخبرہ عمر'' پس وہ عمر کے پاس آیا اور انہیں خبر دی '' یعنی وہی خبر دی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دی تھی اگر وہ شخص پورا واقعہ بیان کرتا توالفاظ اس طرح موجود ہوتے ''فاتی عمر فبیانہ قصہ'' ترجمہ: وہ شخص عمر کے پاس آیا اور ان سے واقعہ بیان کیا ''۔ مگر روایت میں اخبرہ کے الفاظ یہ واضح کر رہے ہیں کہ عمر کو اس واقعہ کی اطلاع نہیں تھی انہیں تو صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر پہچائی گئی ہے یہ تو اس روایت کا متن تھا مگر اس کو بیان کرنے سے قبل ہی ہم بیان کر چکے کہ اس کی سند بھی ضعیف ہے اس لئے یہ روایت سندا اور متن دونوں کے لحاظ سے مستند نہیں ہے اور کسی طرح بھی حجت کے قابل نہیں ہے۔
حصول کلام :
تمام محدثین کے اقوال اور ان کی آراء سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ اس واقعہ کی سند کے دو راویوں میں شدید کلام ہے (١) سلیمان بن مہران الاعمش جو مدلس ہے اور مدلس جب عن سے روایت کرتا ہے تو اس کی روایت قابل قبول نہیں ہوتی اس لئے یہ واقعہ حجت کے قابل نہیں ہے ۔
(٢) دوسری علت اس روایت کی مالک دار ہے جو مجہول ہے جس کی وجہ سے بھی یہ روایت قابل حجت نہیں ہے ۔
ان دونوں علتوں کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے اور کسی طرح سے حجت کے قابل نہیں ہے محدثین میں سے بعض نے الاعمش پر کوئی کلام نہیں کیا ہے جیسے ،حافظ ابن حجر ،امام ہثمی وغیرہ اور بعض نے الاعمش کی تدلیس پر کلام کیا ہے جیسا امام بخاری ، امام نووی ، احمد بن حنبل ، ابن ابی حاتم ،سفیان رحمہم اللہ وغیرہ ، مگرحصول کلام تمام کا یہی رہا ہے کہ تمام محدثین کرام نے اس واقعہ کو سرے سے قبول ہی نہیں کیا ہے جو اس واقعہ کے عدم حجت پر واضح دلیل ہے اور اس روایت سے حجت پکڑنا کسی صورت جائز نہیں ہے جبکہ اس ضعیف روایت کے مقابلہ میں صحیح بخاری میں روایت موجود ہے کہ عمر نے قحط میں عباس سے دعا ئے استسقاء کراوئی تھی۔ اس واقعہ کو حجت ماننا کسی صورت جائز نہیں ہے۔ اوراس واقعہ کی حقیقت کو بیان کرنے سے ہمارا مقصد فقط اصلاح کرنا ہے تاکہ عوام الناس کے سامنے حقیقت واضح ہو جائے اللہ ہمیں صحیح دین پر عمل کی توفیق دے ۔(آمین)

وما علینا الا البلغ
avatar
Sohail
Admin

Posts : 174
Join date : 2010-12-09

View user profile http://rextime.niceboard.com

Back to top Go down

Re: مالک دارکی روایت کی تحقیق

Post by Sponsored content


Sponsored content


Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum